مرکز النور للبحث و النشر نیپال
مرکز النور للبحث و النشر نیپال
अल-नूर रिसर्च एण्ड पब्लिशिङ्ग सेन्टर नेपाल
Al-Noor Research And Publishing Center Nepal
عرض مرتب
معزز قارئین کرام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہٗ
مجلہ النورنیپال کا یہ خصوصی شمارہ آپ حضرات کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل ہونے پر ہم اللہ جل و علا کے سراپاسپاس گزار ہیں۔ اس ذات عالی کی توفیق و عنایت سے ہم اس عظیم کام کو سر انجام تک پہونچانے میں کامیاب ہوسکے ہیں ۔ ساری تعریفیں اور ممنونیت ، نوازشات وکرم گستری اسی کے لائق ہیں۔حمد و سپاس کی تمام تعبیروں کا آغاز و ہی ہے اور منتہی بھی وہی ۔اسی کے نام سے اس عمل کی ابتدا ہوئی اور اسی کے شکر پر اس کی انتہا بھی۔
مرکز النور للبحث و النشر نیپال کی جانب سے ملک نیپال کی تین عظیم شخصیات حضرت مولانا محمد اسلام ندوی مدنیؒ، حضرت مولانا محمد عباس ندوی و مدنی ؒاور حضرت مولانا محمد واعظ الدین ندویؒ کی ملت اسلامیہ نیپال کے تئیں دینی و علمی خدمات کے اعتراف ، احسان مندی کے اظہار اور نئی نسل تک ان کے کارناموں کی ترسیل کے طور پر ان حضرات کی حیات و خدمات پر ۲۹۔۳۰ ؍جون ۲۰۲۴ء کودار العلوم نور الاسلام جلپاپور اور جامعہ سیدنا بلا ل بن رباحؓ،بھوکراہا، سنسری میں دو روزہ سیمینارکا انعقاد کیا گیا تھا جس میں ملک نیپال کے ہی اہل علم ودانش اور ارباب کلک و خامہ کو اپنے احساسات و ا نطباعات ،معمولات و تجربات ، آنکھوں دیکھی اور کانوں سنی ان کی زندگی کی مختلف جہات کو اجاگر کرنے اور قلم و قرطاس کی زینت بنانے کی درخواست کی گئی تھی۔ ہماری اس دعوت پر بیش قیمت مقالے اوروقیع مضامین سیمینار میں پیش کیے گئے اور ان مقالوں اور مضامین کو طباعت کے مرحلہ سے گزار کر محبین و منتسبین تک پہونچانے اورکتابی شکل میں محفوظ رکھنے کا وعدہ کیا گیاتھا۔ اور اسی عہد کے ایفاء کے طور پر ہماری یہ کاوش آپ حضرات کے دست مبارک تک پہونچنے کے قابل ہوسکی ہے۔
یہ تین نام محض تین افراد نہیں کہ جن کی خاک ،سرزمینِ بکرم پور سےنمو پاتی ہے۔ جلپاپور کی علمی فضا میں پروان چڑھتی ہے ،ندوۃ العلماء کے روح پرور ماحول میں صیقل پاتی ہے اور پھر دار العلوم نور الاسلام جلپاپور کوجولان گاہ اور مصاف عمل بناکر رزم گاہ سجاتی ہے یا بزم خوباں کی محفل آراستہ کرتی ہے۔ اور پھر وقت موعود پر اپنے مالک حقیقی کے روبرو پیشی کے لیے حاضری دیتی ہے۔ان تینوں شخصیات کی یہ قدر مشترک ضرور ہے ۔بکرم پور ، بھوکراہا، جلپاپور اور لکھنؤ سے لے کر مدینہ منورہ تک ان کی زندگی کے تانے بانے بنتے بٹتے اور سمٹتے ہوئے ہمیں ضرور نظر آتے ہیں ۔ لیکن ان کی زندگی کا اصل جوہر ملک نیپال جیسے پسماندہ ملک میں دین و علم کی آبیاری، نسلوں کی تعلیم و تربیت، سماج و معاشرہ کی اصلاح کے لیے تگ و دو اور جہالت ، ناخواندگی اور خرافات کی تاریکیوں میں شمع رشد وہدایت کو روشن کرتے ہوئے ماحول کو تابناک بنانا اور گلبن کو عطربیزی عطا کرنا ہے جس سے اس ملک کا چپہ چپہ ان کا احسان مند ہے۔ ان کی پھیلائی ہوئی روشنی سے اس ملک کی تیرگی کافور ہوئی اور ایمان و علم کی وہ باد بہاری چلی ہے جس سے کوئی گوشہ محروم تمنا ئی ہونے کا شاکی نہیں ہے۔ ان تینوں شخصیات کی حیات ملک نیپال کی ایک ناقابلِ فراموش تاریخ ہے، ان کے کارنامے جہد مسلسل کی داستان ہیں۔ ان کی زندگی کے واقعات نصیحت آموزی کا پیغام ہیں۔ شہرت و ناموری کے وافر اسباب مہیا ہونے کے باوجود، تہذیب و تمدن کے گہواروں میں اپنے نام کا ڈنکا بجانے کی صلاحیت کے باوجود انھوں نے تمدن سے ناآشنا، تہذیب سے کوسوں دور، ان پسماندہ و متخلف علاقوں میں علم و ایمان کی چنگاری کوہوا دینے اور مسِ خام کو جلا بخشنے کے لیے گمناہی کو ترجیح دیا، دنیاوی و مادی وسائل کو تج کر قدر کفاف پر راضی رہے۔ یہ حضرات نیپال میں علم و عمل، دین و ایمان، تہذیب و تمدن کے قلعوں کی خشت اول اور بنیادی پتھر ہیں جنھوں نے خود کو مٹاکران کے گنبدو و مینار کو سربلندی عطا کی ہے۔ نیپال کی اسلامی اقدار و تہذیب کی تاریخ ان کے ذکر کے بغیر ادھوری اور ان کے کارناموں سے چشم پوشی تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔
ہم ان تمام مقالہ نگار کی خدمت میں ہدیۂ تشکر پیش کرتے ہیں جنھوں نے ہمارے اس سیمینار کو کامیاب بنانے میں ہمارا بھرپور تعاون کیا اور اپنے بیش قیمت و وقیع مقالات کے ساتھ شرکت فرمائی۔سیمینار کو کامیابی سے ہمکنار کرنے اور ان مضامین کو کتابی شکل میں پیش کرنے میں جن جن حضرات کا دست تعاون بڑھاہے ہم ان تمام کے بھی بے حد ممنون ہیں۔مرکز النور کے ذمہ داران، اراکین معاونین و محبین اور خاص طور سے ملک و بیرونِ ملک میں پھیلے ہوئے ابنائے نوریہ کی کوششوں کی بارآوری پر انھیں مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ اللہ تعالی ہماری اس محنت کو قبول فرمائے اور اس کو نئی نسل کے لیے اتباع و ہدایت کا ذریعہ بنائے آمین ۔ عرض گزار۔ محمد سہیل ندوی دوحہ۔قطر