مرکز النور للبحث والنشرنیپال کی داغ بیل ملک نیپال میں علمی و فکری، تحقیقی و تصنیفی کام کو فروغ دینے کے رکھی گئی ہے، اہل علم حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ مسلمانوں کا علمی، تحقیقی اور ثقافتی سرمایہ ماضی میں اتنا شاندار رہا ہے کہ دنیا کی کوئی قوم ان کی ہم سری نہیں کر سکتی تھی، اور اس علمی کام کا اثر یہ ہوا کہ صدیوں تک دنیا یہ سمجھتی رہی کہ اگر کوئی تہذیب ہے تو مسلمانوں کی ہے، تمدن ہے تو مسلمانوں کا ہے۔ مغرب میں نشاۃ ثانیہ کی جو تحریک اٹھی تھی وہ مسلمانوں ہی کے سکھائے ہوئے علوم کی بدولت اٹھی تھی، جو کچھ اسپین میں مسلمانوں کے علوم و فنون تھے اور جو ان کی درسگاہیں تھیں ان سے استفادہ کر کے جو لوگ تیار ہوئے تھے وہی لوگ مغرب میں اس تحریک کے علمبر دار اور موجب بنے، ایک زمانہ وہ تھا کہ یورپ کے اہل علم عربی زبان میں لکھنا اور بولنا قابل فخر سمجھتے تھے۔
اس کے بعد ایک دوسر ا دور آیا جس میں مسلمانوں نے نئی تحقیقات کا کام قریب قریب ترک کر دیا، جو کچھ علوم انھیں سلف سے ملا تھا اسی پر اکتفاء کر گئے نتیجہ یہ ہوا کہ دوسری قوم تحقیقات کے میدان میں آگے بڑھ گئی، اس لیے آج اسلامیات پر علمی اور تحقیقی کام کی ضرورت جتنی ہے شاید پہلے کبھی نہ ہو، اس کے ساتھ یہ بات بھی ذہن نشیں رہنا چاہئے کہ بحث و تحقیق کا میدان کارزار ہر شخص کی دسترس میں نہیں، اس فن کو سیکھنے کے لئے ہمتیں درکار ہیں اور با اعتماد ادارے کا قیام وجود بھی، عصر حاضر میں عصری جامعات، مدارس اسلامیہ ، دینی وملی تنظیمات و تحریکات کے زیر اہتمام علوم اسلامیہ کے مختلف موضوعات پر تحقیقی و علمی کام ہو رہا ہے ، جو یقینا قابل قدر اور قیمتی علمی سرمایہ ہے، اسی سلسلہ کی ایک کڑی مرکز النور للبحث والنشر نیپال بھی ہے، جس کا مقصد ملک نیپال میں محققین و مصنفین و باحثین کی ایسی جماعت کو تیار کرنا ہے ، جو ملت اسلامیہ نیپال کے در پیش مسائل کے حل کو خالصتا ًکتاب وسنت کی روشنی میں پیش کر سکیں۔
ملک نیپال میں مسلمان صدیوں سے آباد ہیں، چند ارباب علم و دانش کی قربانیوں کی وجہ سے ملک میں مدارس اسلامیہ وجود میں آیا، جس نے اپنی ضیاء بار روشنی سے پورے ملک میں مدارس و مکاتب کا جال بچھا دیا، لیکن اب تک کوئی بحث و تحقیق، تصنیف و تالیف، نشر و اشاعت کا ادارہ نہیں تھا جس کی شدت سے ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔ مولانامحمد سہیل ندوی جنرل سکریٹری مرکز النور للبحث والنشر بموقع رسم اجراء’’ جگت دیالو‘‘ فرماتے ہیں کہ :
" آج ضرورت ہے کہ نیپال میں مدرسین واعظین، ائمہ و معلمین کے ساتھ ساتھ مصنفین محققین کی ایک جماعت پیدا کی جائے، کتابیں طبع کروائی جائیں نیپال کی تاریخ اور مسلمانوں کی تاریخ مرتب کی جائے اردو میں بھی عربی میں بھی، آج ضرورت ہے اسلامی اثاثہ کو نیپال کی قومی زبان میں منتقل کرنے کی، غیروں کے ساتھ اپنوں کو بھی اس کی بہت ضرورت ہے ، یہ وقت کا تقاضا ہے ، زمانہ کی پکار ہے ، اگر مصنفین نہیں ملتے تو ہم مصنفین پیدا کریں، مورخین نہیں ملتے تو ہم مورخین پیدا کریں، محققین کی سر پرستی کریں، خون جگر سے جب تک علم کی آبیاری نہیں ہو گی اس چمن میں کوئی دیدہ ور پیدا نہیں ہو گا۔ اب بھی ہم نے آنکھیں نہیں کھولیں، دل کے دروازے وا نہیں کیے، کل ہماری اور ہمارے اجداد کی تمام صلاحیتیں، سارے علوم و معرفت منوں مٹی تلے دفن ہو جائیں گے اور تاریخ کے کورے صفحات ہماری ناکامیوں پر منھ چڑا رہے ہوں گے "۔
اور اسی طرح ڈاکٹر ابو البقاء ندوی نائب صدر مركز النور للبحث و النشر بموقع رسم اجراء " جستجو ئیں میری " مصنف مولانا ایوب ندوی فرماتے ہیں کہ :
" یہ ایک حقیقت ہے کہ دینی مدارس سے فارغ ہونے والے طلبہ کرام کا کوئی متحدہ پلیٹ فارم، جہاں وہ اپنے علمی و تحقیقی سرگرمیوں کو بڑھاوا دے سکے ، ملک نیپال کے طول و عرض میں نہ ہونے کی وجہ سے ان کی صلاحیتیں بار آور نہیں ہو سکیں، اور اس میدان میں ہماری کاوشیں دور دور تک نظر نہیں آتی، چنانچہ بہت ہی غور و خوض کے بعد یہ محسوس کیا گیا کہ تحقیق و تصنیف کا ایک ایسا ادارہ قائم کیا جائے جہاں ہمارے فارغین مدارس و جامعات اپنی خوابیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کر سکیں ، انہی اونچے مقاصد کو لیکر چند مخلص نوجوان آگے بڑھے جو اسی ادارہ کے پروردہ تھے ، باہم مشورے ہوئے آن لائن اور آف لائن میٹنگوں کا سلسلہ چل پڑا، ان میں سر فہرست اگر میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالب باحث عزیزی شمیم احمد نوری ندوی جو اسی ادارے سے فارغ ہیں ان کا نام لینا اس وقت بر حق سمجھتا ہوں، اور دوسرے نمبر پر جنھوں نے اس مرکز کو سب سے زیادہ مہمیز کیا وہ اس ادارے کے سابق استاذ عزیزی مولانا محمد سہیل ندوی ہیں جن کا تذکرہ افادیت سے خالی نہیں ہے ۔"
دار العلوم نور الاسلام کے ابنائے قدیم نے اپنوں سے جڑے رہنے اور مادر علمی کے اساتذہ سے علمی استفادہ کے لئے ایک واٹسپ گروپ بنام : "نوری ندوی احباب" تشکیل دے رکھا ہے جہاں کبھی علم و ادب کی مجلسیں سجتی ہیں وہیں بعض دفعہ فقہی اور دوسرے مسائل پر سخت بحث و مباحثہ کا دور بھی چل پڑتا ہے ، جس سے کبھی بعض احباب نالاں ہو کر داغ مفارقت بھی دے دیتے ہیں۔ اسی بحث و مباحثہ کا نتیجہ تھا کہ احباب کی طرف سے پیش کش ہوئی کہ کیوں نہ ہم مستقل ادارہ کی بنیاد ڈالیں جہاں ہم علمی اراء کو دلیل کی روشنی میں کچھ سکیں، اسی تخیل کو زمیں پر لانے کے لئے نوری ندوی احباب کے ساتھ ۲۲ جنوری ۲۰۲۲ء ایک آن لائن عمومی میٹنگ رکھی گئی اور مرکز النور للبحث والنشر کے نام سے ایک اکیڈمی کا قیام عمل میں لایا گیا، اور ۲۸ جنوری مجلس مشاورت کی میٹنگ میں عہدیدران کے انتخاب اور نامزدگی کے بعد باقاعدہ اس کام کا آغاز کیا گیا۔ مجلس ادارت و مجلس مشاورت کے آن لائن و آف لائن میٹنگیں ہوئیں۔ تین سال کے اس قلیل عرصہ میں مرکز نے کئی منصوبوں اور پروگراموںکو رو بہ عمل لانے حتی الامکان کوشش کی ہے۔ جن کی اطلاع گاہے بگاہے آپ حضرات کو بھی دی جاتی رہی ہے تا کہ عمومی احباب بھی مرکز کے اقدامات اور اس کی کار کردگی سے ہمہ وقت مطلع رہیں، مرکز کے ذمہ داران و احباب کی سعادتمندی ہے کہ ملک نیپال کی ایک عظیم شخصیت ناظم دارالعلوم نور الاسلام جلپا پور جناب مولانا محمد ایوب ندوی مدظلہ مرکز کی سر پرستی کر رہے ہیں ، اور ہر موقع سے ان کی دعائیں ہمارے لیے سائِبان بنی رہتی ہیں، گاہے بگاہے ان سے ہدایات اور مشورے بھی لیے جاتے ہیں، اور یہ بھی ہماری خوش بختی ہے کہ اس قافلہ کی سالاری کے لیے ہمیں ایک تجربہ کار، زمانہ شناش، ماہر فن استاذ کی رہبری حاصل ہے، جو نئی اور پرانی نسل کے درمیان ایک بہترین سنگم کی حیثیت رکھتے ہیں، میری مراد مرکز کے صدر جناب مولانا محمد عیسی ندوی دامت برکا تہم سے ہے ، ان کی رہنمائی میں مرکز نے تقریبا یہ تین سالہ سفر نہایت سبک روی اور تیز گامی سے طے کیا ہے ، یہ ہمارے لئے کسی اعجاز سے کم نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ مرکز کو ایک فعال و ہم عزم جواں ہر لمحہ دواں رکھتے ہیں ہمیشہ آگے قدم کے صفت سے متصف جنرل سکریٹری کی صورت میں مولانا محمد سہیل ندوی ملا ہے۔ جو ہمیشہ مرکز کے کاز کو آگے بڑھانے کے لیے تیار رہتے ہیں، اسی کے ساتھ مرکز کو ملک کے فعال علماء کرام، و اساتذہ مدارس، وباحثین جامعات کی خدمات حاصل ہیں، جن کی صفت علامہ اقبال یوں بیان کیا ہے۔
نگه بلند سخن دلنواز جان پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
ڈاکٹر محمد شمیم ندوی صدر شعبہ عربی مرکز النور