مرکز النور للبحث والنشر نیپال کا قیام ۲۲ جنوری ۲۰۲۲ء کو ایک آن لائن میٹنگ کے ذریعہ ہوا جس میں نیپال انڈیا متحدہ عرب امارات قطر اور سعودی عربیہ میں مقیم ایک سو سے زائد نیپالی علماء و فضلاء نے شرکت کی۔ اور اس تنظیم کا نام مرکز النور للبحث و النشر تجویز ہوا۔ عام طور سے مرکز کی تمام میٹنگیں آن لائن ہوا کرتی ہیں ۔ مرکز نے اپنے قیام کے دن سے اپنے اغراض و مقاصد کو ایک مشن کے طور پر اپنایا اور ہر ممکن کوشش سے اس کام کو آگے بڑھاتے رہے۔
آف لائن پروگرام کی آغاز ۱۵ ستمبر ۲۰۲۲ ء سے دار العلوم نورا لاسلام جلپاپور میں مرکزی آفس کے افتتاح کی تقریب اور مرکز کے جنرل سکریٹری مولانا محمد سہیل ندوی کی سیرت کے موضوع پر نیپالی کتاب جگت دیالو کی رسم اجراء سے ہوا۔
مرکز کے اراکین و منتسبین میں متعدد فضلاء نے اپنی بعض کتابوں کی رائلٹی مرکز کو عطا کی تھی لیکن پہلی بار صرف جگت دیالو کی طباعت ہی ممکن ہوسکی
۱۰ اگست ۲۰۲۳ء دار العلوم نورالاسلام جلپاپور میں دوسرا اجلاس عام منعقد کیا گیا جس میں مرکز کے سرپرست اور دار العلوم نور الاسلام کے ناظم اعلی حضرت مولانا محمد ایوب ندوی مدظلہ العالی کے مقالات و مضامین کا مجموعہ جستجوئیں میری کی مرکز کے ذریعہ طباعت کے بعد رسم اجراء کی تقریب سجائی گئی۔ اسی اجلاس میں مرکز نے ملک نیپال کی مسلم تاریخ میں پہلی بار اپنے محسنین وفضلاء کو تکریم کرتے ہوئے النور ایوارڈ کا سلسلہ شروع کیا ۔ یہ ایوارڈ سے سب سے پہلے سالار کارواں حضرت مولانا محمد ایوب ندوی مدظلہ العالی کی خدمت میں پیش کرنے کی شعادت حاصل کی۔
۲۰۲۴ء میں ہمارے محسنین کے عنوان سےملک نیپال کے گرزرے ہوئے نامور ہستیوں کی حیات و خدمات کو محفوظ کرنے کے سلسلہ کے پیش نظر علماء نیپال کی دینی و خدمات کو موضوع بناکر ۲۹-۳۰ جون ۲۰۲۴ء کو دوروز سمینار کا انعقاد کیا گیا جس کی تین نشستیں دار العلوم نور الاسلام جلپاپور میں اور دو نشستیں جامعہ سیدنا بلال بن رباح بھوکراہا میں رکھی گئی۔یہ سمینار ملک نیپال کی تین نامور شخصیات مولانا محمد اسلام ندوی، مولانا محمد عباس ندوی اور مولانا محمد واعظ الدین ندوی کی حیات و خدمات سے عبارت تھا۔ اس سمینار میں جو مقالے اور تاثرات پیش کیے گئے اس کو مجلہ النور نیپال کے خصوصی شمارے کے طور پر زیور طبع سے آڑاستہ کیا گیا۔
۲۰ دسمبر ۲۰۲۵ء کو دار العلوم ہدایت الاسلام انروا میں مدارس اسلامیہ نیپال کا نظام، نصاب تعلیم اور جدید تقاضے کے عنون سے یک روزہ سیمنار منعقد کیا گیا جس میں ملک نیپال میں مسلمانوں کے حالات کی روشنی میں مدارس اسلامیہ کے نظام نصاب اور جدید تقاضون سے ہم آہنگ کرنے طریقوں اور ان کے روشن مستقبل کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر سیر حاصل بحث کی گئی۔ ہر مکتب فکر کے علماء کی نمائندگی اس میں شامل رہی۔ اسی سیمنار میں النور ایواڈ ۲۰۲۵ سے مولانا محمد یاسین ندوی ؒ اور مولانا محمد جمال الدین ندوی حفظہ اللہ کی تکریم کی گئی۔ اسی سمینار میں مجلہ النور نیپال اور اسلامی شکچھا کی رسم رونمائی بھی ادا کی گئی۔ اسلامی شکچھا در اصل مفتی کفایت اللہ دہلوی کی کتاب تعلیم الاسلام کا نیپالی ترجمہ ہے جس کو شعبہ نیپالی کے نائب صدر مولانا محمد جمیل رمضان ندوی نے انجام دیا ہے۔ اور مرکز کی جانب سے اس کی طباعت کی گئی۔
۲ جولائی ۲۰۲۶ء مطابق ۱۶ محرم الحرام ۱۴۴۸ کو مدرسہ نداء الاسلام اماہی بلہا برجو سنسری نیپال میں ایک مختصر اجلاس کے انعقاد کے بعد مرکز کے حالیہ صدر مولانا محمد عیسی ندوی مدظلہ العالی کو النور ایوارڈ ۲۰۲۶ سے سرفراز کیا گیا۔ اس نشست میں سرپرست مرکز مولانا محمد ایوب ندوی مدظلہ العالی کے علاوہ علاقے کے دیگر سرکردہ ہستیان بھی موجود تھیں ۔