’’جستجوئیں میری‘‘ حضرت مولانا محمد ایوب ندوی مدظلہ العالی ناظم دار العلوم نور الاسلام جلپاپور سنسری و سرپرست مرکز النور للبحث و النشر نیپال کے مضامین، مقالات خاکے اور برجستہ تقریروں کا مجموعہ ہے۔ ان میں سے بیشتر مضامین ترجمان ملت نیپال کے اداریوں اور مضامین کی شکل میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ بعض مقالات انھوں نے دار العلوم کے اجلاس میں بطور استقبالیہ پیش فرمایا تھا اور بعض وہ تقاریر ہیں جو دار العلوم نور الاسلام جلپاپور کے طلبہ و اساتذہ کے مابین انھوں نے بطور نصیحت ارشاد فرمائے تھے۔ یہ مقالات و مضامین ترجمان ملت کے شماروں اور بعض فائلوں میں محفوظ تھے جن کو مرتب نے بڑی عرق ریزی سے جمع کیا اور پھرمرکز النور للبحث و النشر نیپال نے اس کو زیور طبع سے آراستہ کیا۔ ان مضامین میں تفاوت زمنی بھی اور افکار میں تنوع بھی۔ ترجمان ملت کے وہ تمام پرانے شمارے مرور زمانہ کی نذر ہوگئے لیکن ان سے کشید کیے گئے یہ عطر بیز شہ پارے مجموعہ کی شکل میں آئندہ نسل کے لیے محفوظ ہیں۔ ا مید ہے کہ کتاب عوام و خواص میں مقبول ہوگی اور آئندہ آنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگی۔ اس کتاب کی رعایتی قیمت ۲۰۰ روپے نیپالی ہے۔مزید تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں
مجلہ النور نیپال کی خصوصی اشاعت بیادگار حضرت مولانا محمد اسلام ندوی مدنی رحمۃ اللہ علیہ و حضرت مولانا محمد عباس ندوی مدنی رحمۃ اللہ علیہ و حضرت مولانا محمد واعظ الدین ندوی رحمۃ اللہ علیہ مرکز النور للبحث و النشر نیپال کی جانب سے شائع شدہ ہے۔ اس مجلہ میں نیپال کی ان تین عظیم شخصیات کی حیات و خدمات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ یہ مجلہ دراصل ان مقالات و مضامین کا مجموعہ ہے جو مرکز النور کی جانب سے ان تینوں موقر شخصیات پر منعقد دو روزہ سیمنار میں پیش کیے گئے تھے۔ اس مجلہ کی قیمت ۳۰۰ روپے نیپالی ہے۔ مجلہ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
از ڈاکٹر سلیم انصاری ۔ جھاپا نیپال
تعلیم سب کے لیے کے نعرہ کے ساتھ نیپال سرکار نے ابتدائی ثانوی اور عالی درجات کے تمام تعلیمی اداروں کو ایک قومی دھارے میں لانے کے فیصلہ کے ساتھ معیار تعلیم میں عمدگی اور بہترین کارکردگی کے لیے بہت سارے مناسب اقدامات کیے ہیں۔ سرکاری نجی، سماجی اور مذہبی حیثیت سے قائم شدہ تعلیم گاہوں کی قانونی حیثیت بحال رکھتے ہوئے ان کے لیے اور نئے منصوبوں کے تحت قائم کیے جانے والے اداروں کے لیے راہنما اصول مرتب کیے اور حالات و ظروف کے مطابق طے شدہ ضابطوں میں ترامیم کی کوششیں ہوتی رہی ہیں جہالت و ناخواندگی کی شرح میں خاطر خواہ کمی لانا ہی نیپال سرکار کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ چھوٹے بڑے تمام ادارے حکومت کی تعلیمی نگرانی میں ہوتے ہوئے تعلیم و تربیت کا معیار بہتر کرنا، انتظام و انصرام میں شفافیت اور ادارتی نظاموں کی بے راہ روی اور بے ضابطگی سے پاک کرنا شکچھا نیماولی یا ضابطہ تعلیم کا اصل نصب العین ہے۔ تعلیمی قوانین میں بکرم سمبت ۲۰۵۹ بکرمی کے ضابطہ تعلیم کو کلیدی حیثیت و اہمیت حاصل ہے۔
ڈاکٹر سلیم انصاری (جھاپا) نے محنت بسیار کے بعد اردو زبان میں اس کا خلاصہ تیار کیا ہے تاکہ اردو داں طبقہ بھی اس تعلیمی ضابطہ سے کماحقہ واقف ہوسکے اور نیپال حکومت کے آئین و منشور کے مطابق اپنے اداروں کا تعلیمی و ادارتی نظام بہتر بناسکے۔ ان شاء اللہ جلد ہی یہ کتاب زیور طبع سے آراستہ ہوکر منظر عام پر آئے گی۔