Search this site
Embedded Files
Al-Noor Research and Publishing Center
  • اردو
    • مرکز کی خبریں
    • سہ ماہی مجلہ النور نیپال
    • تعارف
    • مطبوعات
      • جستجوئیں میری
      • ضابطۂ تعلیم ۲۰۵۹ ایک خلاصہ
      • مجلہ النور خصوصی اشاعت
    • ذمہ داران
      • اراکین مجلس ادارت
        • مولانا محمد عیسی ندوی
        • ڈاکٹر حافط ابو البقاء ندوی
        • مولانا عبد المتین ندوی مظاہری
      • اراکین مجلس مشاورت
    • فوٹو گیلری
      • ویڈیو لنک
    • رابطہ کریں
      • پالیسی
  • العربية
    • نبذة عنا
    • الانشطة و الخدمات
    • المجلس التنفيذي
    • هيئة المجلس الاستشاري
    • اتصل بنا
      • الشروط
  • नेपाली
    • परिचय
    • सेवाहरु
    • इ. पुस्तकालय
    • सम्पर्क
      • सर्तहरू
Al-Noor Research and Publishing Center
  • اردو
    • مرکز کی خبریں
    • سہ ماہی مجلہ النور نیپال
    • تعارف
    • مطبوعات
      • جستجوئیں میری
      • ضابطۂ تعلیم ۲۰۵۹ ایک خلاصہ
      • مجلہ النور خصوصی اشاعت
    • ذمہ داران
      • اراکین مجلس ادارت
        • مولانا محمد عیسی ندوی
        • ڈاکٹر حافط ابو البقاء ندوی
        • مولانا عبد المتین ندوی مظاہری
      • اراکین مجلس مشاورت
    • فوٹو گیلری
      • ویڈیو لنک
    • رابطہ کریں
      • پالیسی
  • العربية
    • نبذة عنا
    • الانشطة و الخدمات
    • المجلس التنفيذي
    • هيئة المجلس الاستشاري
    • اتصل بنا
      • الشروط
  • नेपाली
    • परिचय
    • सेवाहरु
    • इ. पुस्तकालय
    • सम्पर्क
      • सर्तहरू
  • More
    • اردو
      • مرکز کی خبریں
      • سہ ماہی مجلہ النور نیپال
      • تعارف
      • مطبوعات
        • جستجوئیں میری
        • ضابطۂ تعلیم ۲۰۵۹ ایک خلاصہ
        • مجلہ النور خصوصی اشاعت
      • ذمہ داران
        • اراکین مجلس ادارت
          • مولانا محمد عیسی ندوی
          • ڈاکٹر حافط ابو البقاء ندوی
          • مولانا عبد المتین ندوی مظاہری
        • اراکین مجلس مشاورت
      • فوٹو گیلری
        • ویڈیو لنک
      • رابطہ کریں
        • پالیسی
    • العربية
      • نبذة عنا
      • الانشطة و الخدمات
      • المجلس التنفيذي
      • هيئة المجلس الاستشاري
      • اتصل بنا
        • الشروط
    • नेपाली
      • परिचय
      • सेवाहरु
      • इ. पुस्तकालय
      • सम्पर्क
        • सर्तहरू

नेपाली        العربية

مرکز النور للبحث و النشر نیپال

अल-नूर रिसर्च एण्ड पब्लिशिङ्ग सेन्टर नेपाल

Al-Noor Research And Publishing Center Nepal

رابطہ کریں

پالیسی

فوٹو گیلری

ویڈیو لنک

ذمہ داران

اراکین مجلس ادارت

اراکین مجلس مشاورت

مطبوعات

جگت دیالو

جستجوئیں میری

مجلہ النور نیپال خصوصی

اسلامی شکچھا

تعارف

اہداف و مقاصد

کارکردگی

النور ایوارڈ

مستقبل کے عزائم

برانچز

ذمہ داران کا تعارف

سرورق

مرکز کی خبریں

سہ ماہی مجلہ النور نیپال

جستجوئیں میری

"جستجوئیں میری "

مصنف: مولانا محمد ایوب ندوی

 مرتب مولانا محمد عثمان ندوی

 کسی قوم کی فکری تاریخ کا مطالعہ کرنا ہو تو اس کے ادیبوں اور مفکروں کے قلم سے نکلی تحریروں کو پڑھنا ناگزیر ہے۔ ایسی ہی ایک نادر و نایاب کاوش کا نام ہے "جستجوئیں میری"۔ یہ کتاب نیپال کے ممتاز ادیب، مفکر اور صحافی مولانا محمد ایوب ندوی کے منتخب مضامین کا گلدستہ ہے۔

کتاب کا پس منظر اور تاریخی اہمیت:

"جستجوئیں میری" محض مقالات کا مجموعہ نہیں، بلکہ سن 1980 اور اس کے گرد و پیش کے نیپال کا آئینہ دار ہے۔ یہ کتاب اس دور کی سماجی، تعلیمی اور سیاسی صورتحال پر گہری روشنی ڈالتی ہے۔ وہ زمانہ جب نیپال کی مسلم قوم فکری و سماجی اعتبار سے نئے موڑ پر کھڑی تھی، مولانا کا قلم اس کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا۔

ماخذ اور ترتیب:

اس کتاب کی اصل جان "ترجمان ملت نیپال" ہے - نیپال میں اردو صحافت کا پہلا رسالہ۔ اسی جریدے میں یہ مضامین، اداریے اور فکری نوٹ شائع ہوا کرتے تھے۔ آج انہی موتیوں کو یکجا کر کے کتابی شکل دے دی گئی ہے تاکہ آنے والی نسلیں اس فکری سرمایے سے مستفید ہو سکیں۔

کتاب کی نمایاں خصوصیات:

مضامین کی تنوع اور فکر کی گہرائیاس کتاب میں اداریے بھی ہیں، سماجی مسائل کا تجزیہ بھی، تعلیمی مسائل کی نشاندہی بھی اور سیاسی بصیرت بھی۔ ادبی موشگافیوں کے ساتھ ساتھ اختراعی ذہن کی جھلک بھی ہر سطر میں محسوس ہوتی ہے۔اسلوب کا انفراد اور زبان کا چٹخارہ مولانا محمد ایوب ندوی اپنے طرزِ تحریر میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ ان کی زبان میں اردو ادب کی چاشنی ہے اور فکر میں دور اندیشی کی جوت۔ وہ صرف مسائل گنواتے نہیں، بلکہ ان کا حل بھی پیش کرتے ہیں۔

نیپال کی ادبی تاریخ کے سرخیل :

بلاشبہ مولانا ندوی کو نیپال کی اردو و اسلامی ادبی تاریخ کا سرخیل اور معمار کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں قلم سنبھالا جب رہنمائی کی شدید ضرورت تھی۔

لطفِ ادب اور رہنمائی کا حسین امتزاج:

"جستجوئیں میری" پڑھ کر قاری ایک طرف ادب کے لطف سے بہرہ ور ہوتا ہے تو دوسری طرف مستقبل کے اندیشوں سے بچنے کے لیے بہترین تجاویز بھی پاتا ہے۔ زبان و بیان کی دلکشی کے ساتھ سماجی اور تعلیمی میدان میں رہنمائی کا چراغ بھی اس میں روشن ہے۔خلاصہ کلام:"جستجوئیں" ایک دستاویز بھی ہے، ایک مشعلِ راہ بھی اور ادب کا شاہکار بھی۔ جو 80 کی دہائی کے نیپال کو سمجھنا چاہتا ہے، جو ذمہ دار صحافت کا نمونہ دیکھنا چاہتا ہے، اور جو فکری و ادبی غذا کا متلاشی ہے، اس کے لیے یہ کتاب لازمہ ہے۔اللہ تعالیٰ مولانا کی خدمات قبول فرمائے اور اس کتاب کو ہر خاص و عام کے لیے نافع بنائے۔ آمین


تقریظ از ڈاکٹر ظفر الاسلام ندوی

یہ کتاب میرے عزیز دوست مولانا محمد ایوب ندوی صاحب کی نگارشات کا مجموعہ ہے ۔ کتاب میں مسلم سماج کے مختلف مسائل پر بحث کی گئی اور بتایا گیا ہے کہ کہ ان کا دنیا میں کیا مقصدہےاور انھیں کس طرح زندگی اللہ پاک کی راہ میں گزارنی ہے۔ اس میں روزہ کے مسائل، دینی امور اور تعلیم کی اہمیت کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے جو سب طلبہ اور نوجوانوں کے لیے مفید ہے۔ یہ تحریریں جو مختلف اوقات میں لکھی گئی ہیں جس سے ان کی حفاظت بھی ہوجائے گی اور استفادہ کرنے والوں  کے لیے بھی آسانی ہوجائے گی۔

مولانا محمد ایوب ندوی میرے بچپن کے ساتھی ہیں۔ ہم دونوں ایک ساتھ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو میں پڑھتے تھے ہماری دل چسپیاں اور سوچ بھی ایک طرح کی تھیں اس لیے کافی ساتھ رہتے تھے وہ بہت ہشاش بشاش رہنے والے طالبعلم تھے وہ ہمیشہ مثبت باتوں میں اپنا وقت صرف کرتے اور اپنی تعلیم پر خاص توجہ دیتے ۔ (کتاب سے اقتباس)

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

جستجوئیں میری۔ ایک تعارف ایک جائزہ 

ازقلم : محمد سہیل ندوی 

(نوٹ: یہ مقالہ جستجوئیں میری کی رسم اجراء کےموقع سے پیش کیا گیا تھا۔ افادۂ عام کے لیے حاضر خدمت ہے)

کتابیں اپنے عہد کا امین ہوتی ہیں، جس دور میں کتابیں تصنیف کی جائیں اس دور کے افراد، معاشرہ ،تہذہب وثقافت، تمدن و معاشرت کا عکاس ہوتی ہیں۔ ایک مصنف اپنی تصنیف و تالیف میں اپنے سماج اور ماحول کے زیر اثر ہوتا ہے، وہ سماج اور ماحول کے احوال و کوائف اور تقاضے وضروریات کے ارد گرد گھومتا ہے اور افراد انسانی کی تعمیر و ترقی کے لیے کوشاں ہوتا ہے یا ان کے تنزلی و انحطاط پر نوحہ کناں ہوتا ہے، بعضے تصنیف نگار صرف اپنے ارد گرد کی منظر کشی پر اکتفا کرتے ہیں اور بعضے ان کے جمود و انحطاط کو توڑنے اور ایک نیا انقلاب پیدا کرنے کے لیے عام رجحانات کے خلاف اعلان جنگ کرتے اور معاشرے سے بغاوت کرتے نظر آتے ہیں۔ پھر شعر گوئی یا نثر نگاری بحیثیت فن وجود میں آتی ہے جو یا تو چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کا آئینہ دار ہوتی ہے یا یہ کہ آؤ کہ اک انقلاب تازہ تر پیدا کریں کا مصداق ہوتی ہے۔ آج ہم اور آپ جس کتاب کی رسم اجراء کے لیے اکٹھا ہوئے ہیں وہ اس دوسری قسم سے متعلق ہے جو زمانہ اور ماحول کی ہاں میں ہاں ملا کر بات نہیں کرتی ہے بلکہ جس کا مقصد پر سکون فضا میں ایک ارتعاش پیدا کرنا اور ماحول کے جمود کو توڑ کر ایک انقلاب نولاناہے، اندھیری رات کی تیرہ و تاریک فضا میں امید و آس کی مشعلیں روشن کرنا ہے۔ یہ ایک مرد آہن کی کوششیں ہیں، ایک تاریخ ساز شخصیت کی جستجوئیں ہیں جو آپ ہمارے سامنے جستجو ئیں میری کے نام سے ایک طویل جدو جہد سعی پیہم اور جہد مسلسل کی داستان کو بیان کرتی ہے۔ اس کتاب کے مشتملات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور اس میں گونا گوں موضوعات اور مسائل سے گفتگو کی گئی ہے ۔ بقول جناب ڈاکٹر سید اجتباء ندوی رحمتہ اللہ علیہ کے جو انہوں نے اس کتاب کے مقدمہ میں تحریر فرمایا ہے : 

’’دعوت تعلیم ادب اور شخصیات یہ چار عناصر انسانی سماج کی تعمیر میں اعلی اور پاکیزہ کردار ادا کرتے ہیں، انہیں سے سماج سازی ہوتی اور پاکیزہ سماج ہی اس دنیا کو آرام و سکون، اطمینا ن و چین، محبت والفت، انس و یگانگت کے نور سے روشن و تابناک بنادیتا ہے، پیش نظر مقالات کا مجموعہ انہیں مذکوہ عناصر پر مشتمل ہے، اپنی زبان و بیان ، روانی و شگفتگی اور اس سے زیادہ طاقت ور جذبہ ایمانی اور سماج انسانی کی اخلاقی تعمیر ، نورانیت و شفافیت کی تمناو حوصلہ لائق ستائش اور قابل توجہ ہے۔ ‘‘

اس کتاب کی داستان شروع ہوتی ہے اس عہد شگفتہ نو بہار سے، جب صاحب کتاب کے کاندھے پر مدرسہ نور الاسلام کے انتظام وانصرام کی عظیم ذمہ داری ڈالی گئی، اور انہیں جواں ہمت، گرم خون اور جرات مند ساتھیوں کا سہارا ملا، پھر ایک انقلاب آیا، اور نور الاسلام میں تعلیمی و تدریسی بدلاؤ کے ساتھ سماج اور معاشرہ کو تغیر پذیر بناتے ہوئے اس متحرک جماعت کی علمی وتحریر صلاحیتوں کو بھر پورانداز میں استعمال کرنے کے فیصلے کے ساتھ ملک نیپال میں اردو کے پہلے رسالہ کے طور پر ترجمان ملت کا اجرا عمل میں آیا۔ اور وسائل و ذرائع کی کمیابی اور حالات ظروف کی تنگ دامانی کے باوجود حضرت ناظم صاحب کی سر کردگی میں یہ رسالہ بڑی آب و تاب اور شان وشوکت سے نکلا اور اس میں بحیثیت مدیر وایڈیٹر ناظم صاحب نے اپنی بھر پور توانائی اور صلاحیت لگائی۔ ایڈیٹر کا قلم حرکت میں آیا تو علم وحکمت کے دریا بہا دئیے ، وعظ ونصیحت اور مشوروں کے کشکول لٹا دئیے اور ادب پارے اور اختراعی موضوعات کو اختیار کیا تو ابو الابطال کے نام سے شہسواران سخن کے چھکے چھڑا دئیے۔ وہ فن پارے وجود میں آئے جو اپنے طرز اسلوب اور طریق نگارش میں اپنی نوعیت کی منفرد تخلیقات ہیں اور کم از کم نیپال کی سرزمین پر اردو ادب کی یہ پہلی اور آخری مثالیں ہیں۔ گرچہ یہ رسالہ اپنے سفر کے آغاز ہی میں حالات کی ستم ظریفی کا شکار ہو گیا اور ایک سال مکمل کیے بغیر التوا کا شکار ہو گیا لیکن قلیل دنوں میں یہ رسالہ اپنے موضوعات کے تنوع ، اسالیب کی عمدگی اور مضمون نگاروں کی کثرت کی بنا پر ایک شاہکار عہد کا آئینہ دار ہے۔ پھر اس کے بعد ترجمان ملت نے کئی بار اپنے سفر کا آغاز کیا اور کئی بار اختتام، لیکن حضرت ناظم صاحب کی سرکردگی میں جو سفر طے ہوا وہ اس رسالہ کے لیے ایک روشن اور تابناک وزریں عہد ہے ۔ ہم نے اپنے زمانہ طالب علمی میں ان رسالوں سے بہت زیادہ استفادہ کیا ہے اور ان رسالوں کے کتنے مضامین از بر کر کے تقریری پروگراموں میں سنائے بھی ہیں، ہمیں ان رسالوں کے کتنے مضامین از بر یاد تھے پھر مرور زمانہ کے ساتھ ان رسالوں سے طلبہ کی رغبت کم ہوتی گئی اور تقاریر کے موضوع پر کتنی نئی تصنیفات مارکیٹ میں آگئیں جس کی بنا پر ہمارے اساتذہ کے فن پاروں کے ضیاع کا اندیشہ ہونے لگا۔ اس موضوع پر دار العلوم میں اپنے زمانہ تدریس میں، میں نے اور مولانا محمد عثمان صاحب نے باہمی مشورے کے بعد ترجمان ملت کے پرانے شماروں کے مضامیں کو محفوظ کرنے اور ان کو کتابی شکل میں مرتب کرنے کا مشورہ کیا اور اس کام کا آغا ز حضرت ناظم صاحب کے مضامین سے کرنے پر اتفاق ہوا، اس وقت ترجمان ملت کے جتنے شمارے دستیاب ہو سکے ان کی کتابت کے بعد مولانا محمد عثمان صاحب نے تلاش بسیار کے بعد وہ مضامین بھی مہیا کیے جو مختلف مجلسوں اور جلسوں میں مقالے کی شکل میں پڑھے گئے تھے، اور پھر ڈاکٹر سید اجتباء ندوی رحمتہ اللہ علیہ سے ایک وقیع مقدمہ لکھوا لینے کے بعد طباعت کی اجازت کا مرحلہ در پیش ہوا ، جس کی اس وقت صاحب کتاب کی جانب سے اجازت مرحمت نہ ہو سکی، اس طرح یہ کتاب ۲۰۰۴ سے ۲۰۲۳ تک صرف کمپیوٹر کی زینت ہی بنی رہی۔ ۲۰۰۷ ء میں میرے قطر جانے کے بعد جب بھی مولانا عثمان صاحب سے ملاقات رہی اس دوران اس کتاب کی طباعت کا تذکرہ ضرور ہوتا۔ الحمد للہ آج اس کتاب کی ترتیب و تزئین کے انیس سال بعد طباعت کا مرحلہ بھی بخیر و خوبی انجام پذیر ہو گیا اور اس بہت خوشی کی بات ہے جمعیت الكتاب والسنہ کے تعاون اور النور ریسرچ اینڈ پبلشنگ سینٹر کے زیر اہتمام اس کی طباعت ہوئی اور ہماری خوش بختی ہے کہ اس کی تقریب رونمائی کی مجلس میں آج یہ چند کلمات عرض کرنے کا زریں موقع مل سکا ہے۔

 حضرات! ملک نیپال جہاں کے علماء اور خواص بھی اردو بولتے ہوئے اپنی مادری زبان کے الفاظ اور جملوں کو درمیان کلام لانے پر مجبور ہوتے ہیں، جہاں کی اردو پر مقامی زبانوں کا غلبہ پایا جاتا ہے، عام بول چال اور تقریروں میں سادے جملے، اور عام ترکیبیں استعمال ہوتی ہیں، اس ماحول میں ایک مقامی رسالہ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے اور اپنے قارئین کو فصیح وبلیغ زبان سے روشناس کرنے کے لیے جو زبان و بیان تراکیب و استعارے مترادفات اور روز مرات کا استعمال ان مضامین میں کیا گیا ہے وہ کسی عبقری شخصیت کا ہی کارنامہ ہوسکتا ہے ۔ زبان کی شگفتگی، اسلوب کی روانی ، الفاظ کی فصاحت، تراکیب کی بلاغت، کے ساتھ ساتھ دل کا درد، امت کی فکر، ماحول کی تبدیلی کی کوشش، سماج کے سلگتے مسائل پر گریہ وزاری ، ماضی سے سبق لینے اور مستقبل سنوارنے کا جذبہ، نالہ نیم شب کا گداز، امت کی زبوں حالی کا شہر آشوب، علماء کی ذمہ داریوں کا احساس، سوسائٹی کے تئیں علماء کا تغافل پر نوحہ خوانی ، معاشرہ میں موجود بگاڑ کی داستان خونچکاں، نصاب تعلیم میں تبدیلی کی ضرورت ، سیاسی پس منظر میں تبدیلی اور ہماری غفلت، سیاسی مشورے علمی ورثہ کی حفاظت ، طالبان علوم نبوت کا مقام ومرتبہ، ادبی فن پارے، شاہکار انشائیے، نئی طرز نگارش اور اپنی ہر بات کو باوزن اور مستند بنانے کے لیے بے شمار دلائل کا انبار، یہ سب چیزیں آپ کو اس کتاب میں ملیں گی۔ اور مصنف کے قلم کی روانی اور زبان و بیان کی دل کشی میں کہیں آپ کو فرق اور تفاوت محسوس نہیں ہوگا۔ 

حضرات گرامی قدر! آج میں آپ کے سامنے اس کتاب پر تنقید و تبصرہ یا تحلیل و تجزیہ کے لیے آپ کے مابین کھڑا نہیں ہوا ہوں کیوں کہ تنقید و تبصره میری وسعت سے باہر کی بات ہے، صاحب کتاب سے دوسرے رشتوں کے علاوہ جو سب سے مضبوط رشتہ ہے وہ ایک استاد و مربی اور شاگرد و متوسل کا ہے۔ اور ایک شاگرد اپنے استاد و مربی سے صرف استفادہ کرتا ہے، ان کی زندگی کو اپنا آئیڈیل بناتا ہے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر کوئی اس کے برخلاف کرتے تو یہ استاد کی حق تلفی اور ان کی بے ادبی شمار ہوتی ہے۔ اس لیے میں صرف اس کتاب کے مشتملات کے چند منتخب اقتباسات آپ کے گوش گزار کروں گا جس سے اس مجموعہ کی صحیح قدر و قیمت کا اندازہ ہو سکے، اور اس کتاب کے بیش قیمت مضامین پر ایک مختصر نظر ڈالی جاسکے۔ س کتاب کے مضامین کو ہم کئی ابواب میں تقسیم کر سکتے ہیں۔

 ۱۔ بحیثیت ایڈیٹر مختلف شماروں میں لکھے گئے اداریے، اس میں یہ خا کی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے، مومن کی عید، سوسائٹی میں علماء کا مقام اور ان کی ذمہ داریاں ، اور خدا کے نام پر تیرے لہو میں ہاتھ بھرتا ہوں جیسے مضامیں اس کی مثالیں ہیں۔

 زبان وبیان کی مضبوطی ملاحظہ فرمائیں۔ یہ خا کی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے میں تحریر فرماتے ہیں: 

’’مگر ایمان و اعتقاد، فکر ونظر اور سیرت و کردار کے اعتبار سے بلاشبہ انسان ایک نہیں رہتا ہے ۔ بلکہ اس کی دوئی ہو جاتی ہے، دو کیمپ میں بٹ جاتا ہے، دو بلاک میں تقسیم ہو جاتا ہے، دو پلیٹ فارم پر چلا جاتا ہے، دو شخصیت کی حد بندی قائم کر لیتا ہے اور دو محاذ پر مد مقابل دکھائی دیتا ہے۔ دونوں میں بے انتہا دوری ناقبل عبور خلیج پیدا ہو جاتی ہے اور اجنبیت وغیریت کی لاتعدادکھائیاں جنم لے لیتی ہیں، ایک ملک ، ایک شہر، ایک سماج ایک خاندان بلکہ ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی دونوں ایک دوسرے سے نا آشنا اور ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن جاتا ہے۔ اسلوب زندگی ، طور طریقہ، روایات واقدار، رسومات و تقریبات حتی که طرز معاشرت و معیشت کی طویل دوڑ میں بھی ہم آہنگی نظر نہیں آتی۔‘‘

 سوسائٹی میں علماء کا مقام کا ذکر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: 

’’مگر کئی صدی قبل سے یورپ کی یورش و یلغار ، فوجی فتوحات اور علمی برتری نے مسلمانوں کے ساتھ جو نارواسلوک، وحشیانہ ظلم وزیادتی اور بہیمانہ برتاؤ کیا، اس سے تاریخ کے سفینہ کا زخم ہرا ر ہے گا، نیز دانشورانِ فرنگ و عیارانِ مغرب کی ہوشیاری و چالبازی سے روایات و اقدار کی پامالی، ماضی سے رشتہ کا  انقطاع ، جہالت و گمراہی کی نئی تعبیر بھی حادثہ کا سبب بنی ، مگر سب سے زیادہ قابل افسوس اور زخم پر نمک پاشی کرنے والا المیہ یہ ہے کہ ان عیاروں نے  سوسائٹی کا اتحاد و یکجہتی پارہ پارہ کر دیا، شاگردی و استادی کا رشتہ بھید بھاؤ کی نذر ہو کر رہ گیا۔ دونوں کے درمیان انقباض و اشتعال کی فضا چھا گئی ، خاص کر علماء کو زہد و استغناء اور قناعت و توکل سے تہی دامن کر دیا، فکر معاش، جلب منفعت اور حصول مال وزر کا فطری تقاضہ چور دروازوں اور نئی تو جیہوں کے ذریعہ ان کے دماغوں کے نہاں خانوں میں ڈالتے ہیں چابک دستی اور ماہرانہ سبک روی کا مظاہرہ کیا، دنیا سے واجی تعلق اور ذاتی منفعت میں ذوق اعتدال کو بطالت و بے کاری اور مال اغیار پر حریفانہ نظر کا خول چڑھا کر خود علما کے ہاتھوں اس تمغہ امتیاز کو اتار پھینکوایا، تکالیف و مصائب جھیلنے کی روش، شدائد و مشکلات پر عبر کرنے عادت اور کوڑوں اور تازیانوں پر خندہ لبی ، علماء کا امتیاز تھا ، مگر حصول زر، جلب منفعت، مادی تعیش و آرام پسندی نے مجاملت، صلح کل اور مصلحت بینی کا خوگر بنادیا، جس کے سبب حق گوئی اور بے باکی کے زیور سے خالی ہوتے چلے گئے پھر ان کی قدر و منزلت اور حکومت و بادشاہت سال خوردہ دیوار کی طرح گر گئی ‘‘۔ ص ۴۷ ۔۴۸

آپ کو یہی اسلوب ، یہی دعوت ، علماء کو ان کے مقام کی اہمیت جتانے کی کوششیں کتاب کے ان تمام مضامین میں مل جائیں گی جن میں علم اور علماء کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اور علماء کے سوانحی خاکے، سوسائٹی میں علما کا مقام اور ان کی ذمہ داریاں، اپنی ذمہ داری کو پہچانیے، دار العلوم نور الاسلام کا پیغام لمحہ فکریہ، آج کے نیپال میں علماء کی ذمہ داریاں، مکاتب و مدارس ہمارے حفاظتی دستے ہیں جیسی شہ سرخیوں اس کتاب کی زینت ہیں۔

 ۲۔ نصاب تعلیم پر جو بحث کی گئی ہے اور ملک نیپال کے تناظر میں جو مشورے دئیے گئے ہیں اور موجودہ وقت کے لحاظ سے کس قدر مناسب و مدلل ہیں اس کو خود صاحب کتاب کی زبانی سنیے : 

’’اس باعث اس نہایت ترقی یافتہ دور میں سب سے مہلک، مؤشر اور نتیجہ خیز پاور نظام تعلیم کوقراردیانہ مبالغہ ہے اور نہ کسی اعتبار سے یہ بات بے معنی کہی جاسکتی ہے۔ بلکہ قوموں کی قسمتوں کا نظام تعلیم سے چولی دامن کا تعلق ہو گیا ہے ۔ گرم لہو اور تازہ دم کمک اس کارخانہ کا مال کہلا سکتی ہے ۔ در حقیقت نظام تعلیم ایک ماہر معالج کا ایسا آلہ سرجری ہے جس کا ہر نشتر فٹ اور جس کا ہر آلہ آپریشن نہایت کامیاب رہتا ہے۔ لہذا ان حالات میں سرکاری اداروں اور تعلیم گاہوں کے نظام تعلیم میں از سر نو تبدیلیاں اور سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہے، یہی ترتیب و اصلاح اس زہر کا تریاق ہے۔ ساتھ ہی دینی آزاد، پرائیوٹ مدارس کے نصاب تعلیم میں بھی خوشنما تبدیلی اور رفتار زمانہ کے مطابق اضافه و ترمیم لازمی قرار یا تا ہے ۔ “ص، ۵۴-۵۵  

’’دارالعلوم کا پیغام‘‘ کے عنوان سے عوام وخواص کو جو پیغام دیئے گئے ہیں وہ بھی اسی موضوع سے متعلق ہیں، ایک سرسری نظر ان مشوروں پر بھی 

ڈالتے چلیں : 

” ملک نیپال میں ماضی اور موجودہ حالات کی روشنی میں مدارس دینیہ کے قیام و تاسیس کی ترویج و ترقی اور حفظ و بقا میں قدر مشترک اور اصولی باتوں پر اتفاق اور اجتماعی جد و جہد کے چند امور غور طلب ہیں: 

ا۔ مدارس و مکاتب کے بورڈ کا قیام جس کی ایک ذیلی اور سہ اضلاعی مورنگ سپتری سنسری کمیٹی ہو اور جس کا دفتر کسی مرکزی مقام پر ہو۔

 ۲۔ ذیلی کمیٹی ، اپنے اپنے گاؤں میں مکتب کے قیام اور اس کی تقویت واجرا کے لیے اضلاعی کمیٹی کے ذمہ داروں سے رابطہ رکھے گی۔

 ۳۔ مکاتب کی سطح سے نیپالی زبان پر توجہ دی جائے تاکہ نیپالی زبان و ادب میں جو کمی ہے اسے دور کیا جا سکے اور خواہشمند بچے سرکاری اسکولوں میں داخل ہوسکیں۔ 

۴۔ بچیوں کی تعلیم پر والدین اور سر پرستوں کو خصوصی طور پر تیار کیا جائے۔ 

-۵- ان مکاتب کا با ضابطہ کسی قریبی ادارے یا جس کے طریقہ پر عمل پیرا ہو اس سے قانونی الحاق کیا جائے ۔ ص ۷۸-۷۹ 

انہیں مشوروں میں مدارس و مکاتب دینی قلعے اور قومی سرمائے کے تصور کر اجاگر کرنے کے لیے بھی کچھ مشورے دئیے گئے ہیں۔ 

ا۔ سمیناروں، کانفرنسوں اور مجلس مذاکرات و حفلات علمیہ کے انعقاد کا اہتمام۔ 

-۲ اختتام سال پر سالانہ کارکردگیوں اور دفعات کے تقاضوں پر عمل درآمد کی رپورٹ۔

 ۳۔ نا کہانی، اندیشے یاد باؤ کی صورت میں باہمی مشوروں کے بعد فیصلہ 

۴۔عملی سیاست ، پارٹی وفاداری اور تخریب سے اجتناب۔ 

۵ - فروعات، جزئیات ، داخلی پالیسی اور طریقہ کار میں مداخلت سے اجتناب۔ 

 مدارس کے با بین مرکزیت کا تصور اور اس کی اہمیت کی تلاش اور عملی اقداموں کی صورت مذکورہ بالا جو مشورے اور تجاویز رکھی گئیں، بہ حیثیت ذمہ دار صاحب مضمون نے اس کو عملی جامہ پہنانے کی بھی کوششیں کی ہیں، دار العلوم کے مدارس ملحقہ اور شاخوں کے ساتھ ساتھ مدرستہ البنات انہیں خوابوں کی تعبیر ہے۔ ۳۔ مضامین کی ایک قسم وہ مقالات اور تقریریں ہیں جو مختلف مناسبات سے جلسہ سیرت النبی ﷺ  مجلس شوری ، مدرستہ البنات اور مسجد دارالعلوم کے افتتاح کے موقع سے عوام و خواص کے سامنے کی گئیں اور بعض وہ فی البدیہ تقریریں بھی ہیں جو طلبہ کے سامنے کی گئیں اور بعد میں اسے ٹیپ ریکارڈر کی مدد سے ضبط تحریر کیا گیا۔ ان مضامین میں مضمون نمبر ۲۶ سے اخیر تک کے مضامین ہیں۔ یہ ہیں دارالعلوم نام ہے، خطبہ استقبالیہ ۱۹۹۷، خطبہ استقبالیہ ۲۰۰۰، جو بڑھ کو خود اٹھالے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے، مکاتب و مدارس ہمارے لیے حفاظتی دستے ہیں، خزاں رسیدہ چمن ہے اسے سجائے چلو، خدا کا کلام جس دل کے اندر ہو ، الوداع ہونے والے طلبہ سے خطاب ، دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔ 

مضامین کا یہ مجموعہ بھی عوام و خواص کے لیے ان شاء اللہ یکساں مفید ہوگا۔

 چوتھی قسم میں ان چند انشائیوں کو رکھا جاسکتا ہے جو ابو الابطال ندوی کے قلمی نام سے اسی ترجمان ملت میں شائع ہوئے ، اور اپنی ادبی چاشنی ، الفاظ و تراکیب کی تک بندی ، اسلوب کی لطافت کی اپنی مثال آپ ہیں۔ احساس جو ۔ ۔ یتیمی ، صبح ہوگی میرے لال، ضمیر کی بیداری جب غلبہ ءشوق و محبت کا ساغر چھلکا پڑھنے کے بعد ایک قاری الفاظ کے گورکھ دھندوں میں پھنس کر رہ جاتا ہے اور آخر تک ان لفظی پیچیدگیوں سے باہر نہیں نکل سکتا، به طور نمونہ احساس جو کے دو پیراگراف نقل کرتا ہوں تا کہ جن حضرات نے اسے پہلے پڑھا ہوا اس کے لیے قند مکرر کی حیثیت ہو مگر جو حضرات پہلی بار سن رہے ہوں وہ ان کی لذت سے بہرہ ور ہوں گے ۔

 ” نہایت نغمگی سے، پرکشش ادا اور میٹھے و بانکپن ساز میں صدا، مرے کان میں گونجی، میرے محبوب، میرے چہیتے دوست، انسان کے دو روپ، انسان کے دو چہرے، یا الہی ، دو روپ اور دو چہرے، جی ہاں، دو روپ اور دو چہرے، خدو خال کی موزونیت ، رنگ و روپ کی مماثلت ، چہرے و بشرے کی شگفتگی جسم و بدن کی رنگت، قدوقامت کی بناوٹ ، چاند تارے کی چمک، پھول وکلی کی نزاکت،گل و غنچہ کا فسانہ، حجر وحدید کی صلابت، اور تیغ وتلوار کی کاٹ ، دونوں مشترک اور ہم آہنگ، روح و اسپرٹ ، ہمدردی و مہر بانی ، خلوص و ایثار، قربانی اور فدائیت ، حب الوطنی اور وفاداری چمن ، جذبہ امن و شانتی ، داعیه بقائے باہمی ، فکریگانہ و بے گانہ ، در دخویش و درویش ، دونوں کے مابین خط امتیاز وحد فاصل اور دیوار ورکاوٹ، ایک محض آدمی اور دوسرا آدمی انسان ایک محض خود غرض، مفاد پرست، پیٹ پرور، وفادار مال و زر، طالب دنیا اور ہوس نفس کا رسیا، دوسرا باپ کی ، بھائی کی حمیت، ماں کی مامتا، بہنوں کا پیار، دوست کا خلوص، استاد کی تربیت ، طالب علم کی شان، بڑوں کی مہربانی ، چھوٹوں کی نیازمندی ، پڑوسی کا خیال، ہم نشیں کا لحاظ ، ملک و قوم سے محبت ، وطن سے الفت، خود غرضی و مفاد پرستی سے اجتناب، ہوس رانی سے احتراز ، سماج کی درستگی ، معاشرہ کی اصلاح اور مذہب کا احترام کے ابلتے چشمے، اور بکھرے لال و گوہر ، نہ آسمان کی وسعت اور نہ زمین کی پہنائی اس کا احاطہ کر سکے، نہ بازیچہ اطفال اور نہ کھلاڑیوں کی دل پسند تفریح، بڑے دل گردے کا کام، اور صبر و استقلال کا جام، تب پھر آدمی انسان محض بڑا سرمایہ دار و امیر، کامیاب کاشتکار و تاجر، مشہور مالدار و بنگر، شہ زور پہلوان عظیم نادر کھلاڑی، فیمس ڈاکٹر، بونا فائٹ انجینیر ، قابل قدر ہوا باز، کامیاب اسکالر، سر کردہ سیاسی لیڈر، سماجی کارکن اور سخت گیر ایڈمنسٹریٹر محض آدمی ، صرف مشت خاک محض فسانه رنگ و بو اور فقط کہانی قدو قامت ۔ ۔۔۔

آواز بلا ر کے، بغیر جھکے ، موج دریا کی طرح رواں تھی، عمدہ کلام، اعلی درجہ کی صلاحیت، پھکیلی شگفتہ بیانی، شیریں گفتاری، اچھوتا فلسفه، بہترین تعریف ، انمول اشاره را هم ، قابل قدر نشان منزل، میں سراپا مبہوت ، یکسر جرات ، تمام تر عجوبہ بنے ، اس کی فصاحت و بلاغت اور لیا قت وصلاحیت کے بارے میں سوچ رہا تھا، تائید و تعریف کے الفاظ تلاش کر رہا تھا کہ السلام علیکم تم سلامت رہو ہزار برس، ؎ 

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں 

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتا ہے 

گنگناتی ،فضا کی تیرگی کو چیرتی ہوئی نہ جانے کدھر اوجھل ہوگئی ،مگر ایک یاد، ایک نقش ، ایک تحریر اور ایک معنی پر دۂ دل وضمیر پر چھوڑ گئی 

ص ۸۵-۸۶ 

یہ ادبی انشائیے نہ صرف ادبیت سے بھر پور ہیں بلکہ اس میں مقصدیت ہے ایک پیغام ہے ایک سندیش ہے ۔ ادب برائے ادب نہیں بلکہ ادب برائے مقصدیت کا نمونہ ہے، یہ سلسلہ زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہ سکا پھر بھی آنے والی نسلوں کی راہنمائی کے لیے یہ نشان راہ کافی ہے، نقوش پا واضح ہیں اگر کوئی اس راہ گزر کا مسافر ہونا چاہیے اس کے لیے سمت کی تعیین کے لیے یہی نقوش کافی ہیں ۔

 مركز النور للبحث والنشر نیپال کے اراکین و ذمہ داران کی خوش بختی ہے کہ یہ سعادت ان کے حصے میں آئی ہے، ترجمان ملت کے پرانے شماروں میں موجود دوسرے اساتذہ کرام کے مضامین کو جمع کر کے کتابی شکل میں محفوظ کرنا اور بھولے بسرے سبق کر پھر سے یاد کروانے کے لیے ان مضامین کی از سر نو طباعت مرکز النور کے منصوبے میں شامل ہے ۔ ہماری یہ کوشش ہوگی کہ باقی اساتذہ کرام کے مضامین کو بھی جمع وطباعت کے مرحلہ سے گزار کر آئندہ نسل تک پہونچائی جائے ، اور اس کے فائدے کو عام کیا جائے۔ وما توفیقی الا باللہ 


اس مضمون کو پی ڈی ایف کی شکل میں ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

Download

پیچھے جائیں

 © 2026 All Rights Reserved Al-Noor Research and Publishing Center

Reg. No. 318018/080/081, PAN No.619755498Al-Noor Research And Publishing CenterInaruwa-10, Sunsari, NepalEmail: alnoorrapcn@gmail.com
Prepared by: M. Suhail Nadwi
We Accept Fonepay for Nepali Buyer or Donator with this scanner behalf of Al-Noor Research and Publishing Center
A/c. No. 2222170019598373
Rashtriya Banijya BankInaruwa. Sunsari
Google Sites
Report abuse
Page details
Page updated
Google Sites
Report abuse