نامِ نامی: حضرت مولانا ڈاکٹر حافظ ابو البقاء محمد علی ندوی حفظہ اللہ
پیدائش و نشو و نما:
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ابو البقاء محمد علی الندوی مدظلہ کی ولادتِ باسعادت سنہ 1974ء میں ملکِ نیپال کے مشرقی صوبہ سنسری، ضلع نمبر کے ایک مردم خیز گاؤں "بھوکراہا" وارڈ نمبر ۲ میں ہوئی۔ آپ کا خاندان اپنے علاقہ میں علم و دین اور تقویٰ و طہارت کے حوالے سے ممتاز اور معروف ہے۔
تحصیلِ علم کا سفر:
ابتدائی تعلیم اپنے ہی گاؤں کی مکتب میں حاصل کی۔ اس کے بعد تشنگیِ علم آپ کو دار العلوم نور الاسلام، جلپا پور لے گئی، جہاں آپ نے کتاب اللہ کے کئی اجزاء اپنے سینے میں محفوظ کیے۔پھر قرآن سے یہی والہانہ شغف آپ کو شہرِ علم و ادب لکھنؤ کھینچ لایا۔ وہاں مسجد حیدر بخش کی عظیم درسگاہ "المدرسۃ العالیۃ العرفانیۃ" میں تکمیلِ حفظ کی سعادت حاصل کی۔ اس کے بعد آپ نے مادرِ علمی دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں داخلہ لیا، وہاں قرآنِ کریم کو تجوید و اتقان کے ساتھ مکمل کیا اور علومِ شرعیہ کی تحصیل میں لگ گئے۔ 1994ء میں سندِ عالمیت اور 1996ء میں سندِ فضیلت سے سرفراز ہوئے۔
فراغت کے بعد آپ نے حضرت علامہ سید سلمان حسینی ندوی رحمہ اللہ کے زیرِ سایہ جامعہ امام احمد بن عرفان شہید، ملیح آباد، لکھنؤ میں کئی برس تک علومِ اسلامیہ کی تدریس کے فرائض انجام دیے۔
زمانۂ طالب علمی کی جھلک:
دار العلوم ندوۃ العلماء میں آپ زمانۂ طالب علمی ہی سے ایک فعال، متحرک اور ہردلعزیز طالب علم کے طور پر جانے جاتے تھے۔ اسی مقبولیت کی بنا پر آپ جمعیت الاصلاح کے ناظم منتخب ہوئے۔ اپنے دورِ نظامت میں آپ نے رواقِ اطہر میں طلبہ کے مطالعہ کے لیے ایک شاندار لائبریری کی بنیاد رکھی، جو آج بھی بحمد اللہ رواق کے طلبہ کے لیے علمی مرجع اور سرمایۂ استفادہ بنی ہوئی ہے۔ جزاہ اللہ خیراً۔اعلیٰ تعلیم –
ارضِ حرمین میں:
17 جنوری 1999ء کو آپ جامعہ ام القریٰ، مکۃ المکرمہ میں داخل ہوئے۔ پہلے معہد اللغۃ العربیہ میں عربی زبان میں مہارت حاصل کی، پھر اسی جامعہ سے بیچلر، ماسٹرز اور بالآخر ڈاکٹریٹ کی اعلیٰ ترین سند حاصل کر کے اپنے علمی سفر کی تکمیل فرمائی۔
23 برس تک حرمِ پاک کی علمی فضاؤں سے فیض یاب ہونے کے بعد 5 اگست 2022ء کو آپ اپنے وطنِ عزیز نیپال واپس تشریف لائے تاکہ دعوت و اصلاح کا جو چراغ آپ نے مکہ میں روشن کیا تھا، اسے اپنے ملک میں بھی فروزاں کر سکیں۔
موجودہ مناصب و خدمات:
فی الحال آپ بیک وقت کئی محاذوں پر دینِ متین کی خدمت میں مصروف ہیں:
خطیب: جامع النور
استادِ حدیث و تفسیر اور نگرانِ تعلیم: جامعۃ القرآن الکریم، انروا
اس کے علاوہ آپ کئی اہم علمی و دعوتی مناصب پر فائز ہیں:
رکنِ مرکزی: جمعیۃ علماء نیپال
جنرل سکریٹری: ملتقیٰ علماء نیپال
بانی و صدر: مکہ اکیڈمی
نائب صدر: مرکز النور للبحث و النشر
رکنِ مجلسِ مشاورت: دار العلوم نور الاسلام، جلپا پور
نائب جنرل سکریٹری: مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت، نیپال
پیغام اور مشن:
آپ نے اپنی زندگی دعوت الی اللہ، نئی نسل کی تربیت اور ملتِ نیپالیہ کی فکری رہنمائی کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ آپ کی شخصیت میں ندوۃ العلماء کی اصالتِ فکر اور جامعہ ام القریٰ کی علمی گہرائی کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کے علم و عمل میں برکت دے، آپ کے فیض کو عام فرمائے اور آپ کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے نافع تر بنائے۔ آمین۔