نامِ گرامی: حضرت مولانا عبد المتین الندوی المظاہری - حفظہ اللہ
ولدیت: فرزندِ ارجمند مولانا احمد حسین الندوی - علیہ الرحمہ
سنِ ولادت: 1975ء
مقامِ ولادت: بکرمپور، گھسکی ضلع سنسری نیپال
سکونت دائمہ: جلپاپور، انروا ۱۰۔ سنسری نیپال
محلِ اقامت حالی : مملکتِ سعودی عرب
ابتدائے زیست و تکوینِ علمی:
آپ کی نشو و نما ایک علمی و دینی خانوادے میں ہوئی۔ اسی مبارک ماحول نے آپ کے دل میں طلبِ علم کی شمع فروزاں کی۔ ابتدائی تعلیم آپ نے اپنے آبائی گاؤں بکرمپور کے مکتب میں حاصل کی، پھر والدِ ماجد کی زیرِ سرپرستی مدرسہ رحمانیہ، ننکار - فاربس گنج ضلع ارریہ بہار (بھارت) میں درجہ سوم عربی تک تحصیلِ علم فرمائی۔ذوقِ علم آپ کو مزید آگے لے گیا۔ 1986ء میں آپ نے دارالعلوم نور الاسلام، جلپاپور - نیپال کا رخ کیا اور وہاں سے ثانوی کے بقیہ سال اور سہ سالہ عالیہ تک کی تکمیل فرمائی۔ لیکن تشنگی باقی تھی، چنانچہ توسیعِ علومِ شرعیہ کی خاطر آپ نے دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کی راہ لی۔ یہی وہ چمنستان ہے جہاں آپ کے فکری و علمی ذوق کو جِلا ملی۔ وہاں سے آپ نے 1994ء میں شہادتِ عالمیہ اور 1996ء میں تخصص فی الحدیث النبوی کی سندِ فضیلت حاصل کی۔
علومِ حدیث سے آپ کی والہانہ محبت ختم نہ ہوئی، بلکہ 1997ء میں آپ زانوئے تلمذ تہہ کرنے پہنچے شیخ الحدیث، محدثِ عصر، حضرت مولانا یونس صاحب بجنوری المظاہری رحمہ اللہ کی خدمت میں - جو حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ کے خواص تلامذہ میں سے تھے –
مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور میں۔ وہاں ایک سال تک آپ نے ان کی صحبت سے اکتسابِ فیض کیا اور حدیث و سلوک کے گوہرِ نایاب سمیٹے۔
خدماتِ علمیہ و دعویہ:
فراغت کے فوراً بعد 1997ء میں ہی آپ اپنی مادرِ علمی دار العلوم نور الاسلام جلپاپور میں بطورِ مدرس متعین ہوئے، اور طویل عرصہ تک حدیث و فقہ کی مسندِ تدریس کو زینت بخشی۔ آپ کے حلقہ درس سے تشنگانِ علم کی ایک کثیر تعداد نے سیرابی حاصل کی۔
2010ء میں رابطة العالم الاسلامی کےتحت آپ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور معہدِ اعدادِ ائمہ و دعاۃ میں ایک سال تک اکابرِ علماءِ عرب سے استفادہ کیا۔
فی الحال آپ مملکتِ سعودیہ میں مقیم ہیں اور وہیں سے علمی و دعوتی مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مناصب و ذمہ داریاں:
آپ "مرکز النور للبحث و النشر - نیپال" کے نائب صدر اور رکنِ مؤسس ہیں۔ اس ادارے کے قیام و استحکام میں آپ کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔
قلم و قرطاس سے رشتہ:
اللہ تعالیٰ نے آپ کو قلم کی روانی بھی عطا فرمائی ہے۔ آپ کے مضامین و مقالات مختلف علمی و دعوتی مجلات میں شائع ہوتے رہتے ہیں، جن میں فکر کی گہرائی، اسلوب کی شگفتگی اور امت کے مسائل سے گہری وابستگی نمایاں نظر آتی ہے۔
حرفِ آخر:حضرت مولانا عبد المتین الندوی المظاہری کی ذاتِ گرامی میں تین خوشبوئیں یکجا ہیں: ندوہ کا اصیل ادبی و فکری مزاج، مظاہر علوم کی حدیثی تربیت، اور حجازِ مقدس کی دعوتی بصیرت۔
آپ بیک وقت عالم، مدرس، داعی اور ایک مؤسس کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ آپ کی زندگی کا مقصد اشاعتِ سنت، ترویجِ دین اور اپنے ملک نیپال و بیرون میں علمی اداروں کی تعمیر و ترقی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کے علم و عمر میں برکت دے اور آپ کے فیض کو عام تر فرمائے۔ آمین