نامِ نامی: حضرت مولانا محمد عثمان ندوی - حفظہ اللہ و رعاہ
سنِ ولادت: 1976ء
جائے ولادت: ننکار ، فاربس گنج،ضلع ارریہ، بہار - ہندوستان
خاندانی پس منظر: ایک دین دار، علم دوست اور محافظِ روایات گھرانہ
تحصیلِ علم کا سفر:آپ نے ہوش کی آنکھ اپنے آبائی وطن فاربس گنج میں کھولی۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ رحمانیہ، ننکار میں حاصل کی، جو آپ کا آبائی مکتب ہے۔پھر طلبِ علم کا جذبہ آپ کو سرحد پار لے گیا۔ آپ نیپال تشریف لے گئے اور دارالعلوم نور الاسلام جلپاپور میں داخلہ لیا، جہاں ثانویہ اور عالیہ کی منزلیں طے کیں۔ یہیں سے آپ کے علمی تشخص کی بنیاد استوار ہوئی۔اس کے بعد آپ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ تشریف لے گئے، جو برِ صغیر میں علومِ اسلامیہ کا نگینِ تاج ہے۔ وہاں 1996ء میں آپ نے شہادتِ عالمیہ کی سند حاصل کی۔ تشنگی ابھی باقی تھی، چنانچہ آپ نے مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور کا رخ کیا اور وہاں سے سندِ فضیلت حاصل کی۔ اس طرح آپ کی ذات میں ندوہ کی ادبی لطافت اور مظاہر علوم کی حدیثی صلابت یکجا ہوگئی۔
تدریسی و انتظامی خدمات:
فراغت کے بعد آپ نے دنیا کی چکاچوند سے کنارہ کشی اختیار کی اور اپنے آپ کو تدریس و تربیت کے لیے وقف کر دیا۔ آپ واپس دارالعلوم نور الاسلام جلپاپور تشریف لے آئے اور تب سے اب تک اسی چمن کی آبیاری میں مصروف ہیں۔
دارالعلوم میں آپ بیک وقت کئی محاذوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں:
مدرس:حدیث شریف، فقہ و اصولِ فقہ، اور زبان و ادبِ عربی کے استاذ
نائب مہتمم: شعبہ طلبہ کے نائب مہتمم کی حیثیت سے طلبہ کی تربیت و نگرانی
رئیس التحریر: نیپال کے معروف علمی ترجمان "ماہنامہ ترجمانِ ملت - نیپال" کے مدیرِ اعلیٰ
مسؤولِ نشر و اشاعت: دارالعلوم کے شعبہ نشر و اشاعت کے ذمہ دار
نائب سکریٹری: مرکز النور للبحث و النشر - نیپال کے نائب جنرل سکریٹری
خداداد صلاحیتیں اور علمی کارنامے:
اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہمہ جہت صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ آپ بیک وقت معلم، مربی، خطیب، مصنف اور شاعر ہیں۔ یہ اجتماعِ اضداد کم ہی کسی ایک شخصیت میں نظر آتا ہے۔اردو شاعری آپ کا خاص میدان ہے۔ آپ کا شعری مجموعہ "ارمغانِ دارالعلوم" اہلِ ذوق سے دادِ تحسین حاصل کر چکا ہے۔
تصنیف و تالیف میں بھی آپ کا قلم رواں ہے:
"جستجوئیں میری": آپ کی مرتب کردہ کتاب جو مرکز النور للبحث و النشر سے شائع ہوئی۔
"چراغِ نور": اس میں آپ نے نیپال کے ان اکابر علماء کے سوانح و مآثر کو جمع فرمایا ہے جنہوں نے علمی و دعوتی میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں اور اب دارِ بقا کوچ کر گئے۔
اس کے علاوہ آپ کی دیگر کتب بھی طبع ہو کر مقبولِ عام ہو چکی ہیں جن سے خواص و عوام یکساں مستفید ہو رہے ہیں۔
خلاصہ کلام:
مولانا محمد عثمان الندوی کی شخصیت تدریس، تصنیف، خطابت اور تربیت کا حسین امتزاج ہے۔ آپ کی زندگی کا مقصد نئی نسل کے دلوں میں علمِ نافع اور ادبِ رفیع کا بیج بونا، اور برِ صغیر و نیپال میں اسلامی ورثے کو زندہ و تابندہ رکھنا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کی مساعیِ جمیلہ کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور آپ کے فیض کو تادیر جاری و ساری رکھے۔ آمین۔